گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کر

Aaftab Rais Panipati

گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کر

چڑھا دیا ہے بھگت سنگھ کو رات پھانسی پر

اٹھا ہے نالۂ پر درد سے نیا محشر

جگر پہ مادر بھارت کے چل گئے خنجر

شکستہ حال ہوا قوم کے حبیبوں کا

بدن میں خشک لہو ہو گیا غریبوں کا

ابھی تو قوم نے نہروؔ کا غم اٹھایا تھا

ابھی تو داس کی فرقت نے حشر ڈھایا تھا

ابھی تو ہجر کا بسمل کے زخم کھایا تھا

ابھی تو کوہ ستم چرخ نے گرایا تھا

چلے ہیں ناوک بیداد پھر کلیجوں پر

کہ آج اٹھ گئے افسوس نوجواں رہبر

عدو وطن کو تشدد سے کیا دبائیں گے

وہ اپنے ہاتھ سے فتنے نئے جگائیں گے

جو ملک و قوم کی دیوی پہ سر چڑھائیں گے

نثار ہو کے شہیدوں میں نام پائیں گے

گرے گا قطرۂ خوں بھی جہاں سپوتوں کا

فدائے ہند وہاں ہوں گے سینکڑوں پیدا

جہاں سے ملک عدم نونہال جاتے ہیں

نمایاں کر کے ستم کش کا حال جاتے ہیں

گرا کے ہند میں کوہ ملال جاتے ہیں

وطن کو چھوڑ کے بھارت کے لال جاتے ہیں

تڑپ رہے ہیں جدائی میں بے قرار وطن

چلے ہیں عالم بالا کو جاں نثار وطن