ہمارے واسطے رستے کہاں دعا کے تھے
V. Sudhakar Raoہمارے واسطے رستے کہاں دعا کے تھے
ہزار زینے بس اپنے نقوش پا کے تھے
شرر تھا آہ تھی ذرہ تھا اور قطرہ تھا
کئی نشاں مری ٹوٹی ہوئی انا کے تھے
جسے سمجھتے تھے سب اتحاد میل ملاپ
یہی لگا کہ اشارے وہ ہاں میں نا کے تھے
دلالی کیسی بلا تھی خدایا کیسے کہوں
ہماری منزلیں اور رستے رہ نما کے تھے
سمجھ میں آ گیا جلدی حیات و مرگ کا راز
کہ ابتدا ہی میں آثار انتہا کے تھے
خیال آیا وہیں آنکھیں موند لوں اپنی
جہاں سے راستے پھر آگے چشم وا کے تھے