سکون پیار تبسم بہار گل شبنم

Daud Naseeb

سکون پیار تبسم بہار گل شبنم

خوشی میں زیست کو کیا کیا سمجھ گئے تھے ہم

غموں سے قلب و نظر کا بدل گیا عالم

مگر مزاج تبسم نہ ہو سکا برہم

یہ کس کو ڈھونڈتے پھرتے ہیں میرے دیدۂ نم

کہاں وہ لوگ جو اب بانٹ لیں حیات کے غم

کس آفتاب صفت شخص کے رکے تھے قدم

چراغ دیر و حرم کے ہیں آج تک مدھم

جنوں کی راہ سے گزرا نہیں کوئی شاید

کسی جگہ تو دکھائی دے کوئی نقش قدم

خرد پہنچ کے وہاں آج ناز کرتی ہے

وہ جس مقام پہ کل تک گزار آئے ہم

رہ وفا سے گزرنا محال ہو جاتا

اگر نصیبؔ نہ ہوتا ہمارے ساتھ یہ غم