شب فراق سے مانوس غم کا مارا ہوں

Ghamgeen Qureshi

شب فراق سے مانوس غم کا مارا ہوں

ابھرتا چاند نہیں ڈوبتا ستارا ہوں

زمانے والو اگر ہو سکے تو رحم کرو

مری ہنسی نہ اڑاؤ میں بے سہارا ہوں

نوازو دار و رسن سے کہ کھال کھنچواؤ

بس ایک بار یہ کہہ دو کہ میں تمہارا ہوں

ملے گا میرا تعارف کہاں کتابوں میں

میں اہل درد کے چہروں سے آشکارا ہوں

وہ جس سے پائی ہے تنویر چاند سورج نے

میں اس کے عشق میں غمگینؔ دل کو ہارا ہوں