جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیں

Rafi Badayuni

جو غم نصیب ہیں کیوں وہ خوشی سے ملتے ہیں

اندھیرے دیکھیے کب روشنی سے ملتے ہیں

جنون شوق کو صحرا نورد پایا ہے

کچھ اس کے رشتے بھی آوارگی سے ملتے ہیں

خلوص بھی کوئی بنجر زمین ہے شاید

ثبوت اس کے مری زندگی سے ملتے ہیں

وہ بات کہہ دی جسے عقل و دل قبول کریں

یہ دشمنی ہے تو ہم دشمنی سے ملتے ہیں

مقام ہوتے ہیں دل کے قریب بھی لیکن

غرور سے نہیں وہ عاجزی سے ملتے ہیں

پسند خاطر احباب ہوں نہ ہوں لیکن

وہ لوگ بھی ہیں جو سادہ دلی سے ملتے ہیں

امیر لوگوں کو عیش و نشاط کے ساماں

غریب لوگوں کی فاقہ کشی سے ملتے ہیں

خود اپنے آپ سے اکثر ملے ہیں یوں بھی رفیعؔ

کہ جیسے لوگ کسی اجنبی سے ملتے ہیں