کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھا

Faiz Tabassum Tonsvi

کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھا

اور اس پہ نور کسی ماہتاب کا سا تھا

بہار کی کوئی توجیہہ اور کیا کیجے

تمام رنگ تمہارے شباب کا سا تھا

تمام شہر تمنا میں گھوم کر دیکھا

وہی سماں دل خانہ خراب کا سا تھا

ترے قریب تو خود سے بعید ہو کے رہے

تمہارا لطف تمہارے عتاب کا سا تھا

وہ ایک پل جو تمہارے بغیر بیت گیا

وہ ایک پل بھی تو یوم حساب کا سا تھا