مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت

Laiq Aajiz

مجھے تو جو بھی ملا ہے عذاب کی صورت

مری حیات ہے اک تشنہ خواب کی صورت

ہواؤ دل کی طرف احتیاط سے جانا

وجود امن کا ہے قائم حباب کی صورت

ملامتیں غم و آلام فکر مایوسی

یہ زندگی ہے شکستہ کتاب کی صورت

خود اپنی کرگسی فطرت سے ہو گئے رسوا

وگرنہ تم بھی اٹھے تھے عقاب کی صورت

کبھی فلک تو سمندر کبھی اٹھا لایا

پسند دونوں کو ہے آفتاب کی صورت

شگفتگی کی جگہ جھریوں نے لے لی ہے

ہمارا چہرہ تھا عاجزؔ گلاب کی صورت