نہ کوئی صبح کا منظر نہ شام کی تصویر

Babar Zuhrab

نہ کوئی صبح کا منظر نہ شام کی تصویر

سکوت کھینچ رہا ہے کلام کی تصویر

رکھیں گے نقش محمد کا دل میں تاکہ رہے

ہمارے پاس ہمارے امام کی تصویر

یہ صبح و شام کے منظر میں وقت کا کردار

یہ روز و شب ہیں عجب اہتمام کی تصویر

پئیں گے دل سے شہادت کا جام برسر خاک

کہ ہے یہ موت ہمارے دوام کی تصویر

جہاں جہاں سے وہ گزرا زمانہ رک گیا تھا

ہر اک مقام نے کھینچی خرام کی تصویر

وہ آنکھ جس کو میسر ہو وہ نہیں رکھتا

یہ جام جم کا تصور یہ جام کی تصویر

زمیں پہ بجلی گرائی گئی ہے یوں ظہرابؔ

بنا رہا ہے خدا انہدام کی تصویر