ہماری آنکھ میں منظر تمھارے روشن ہیں

Babar Zuhrab

ہماری آنکھ میں منظر تمھارے روشن ہیں

کہ جیسے نیلے فلک پر ستارے روشن ہیں

کسی نے آگ لگائی ہے ٹھہرے پانی میں

سلگ رہا ہے سمندر کنارے روشن ہیں

یہ صوت ہے کہ علامت ہے شمع محفل کی

یہ لفظ ہیں کہ نئے استعارے روشن ہیں

سنبھل کے مجھ کو قدم رکھنا ہوں گے دنیا میں

کنایہ کار ہے وہ آنکھ اشارے روشن ہے

کہیں کہیں تو وہ لو سر اٹھانے لگتی ہے

کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے سارے روشن ہیں

کسی نے جھونک دیا ہے بدن کی دوزخ میں

تمام شعلے تمامی شرارے روشن ہیں

مجھے جلانا نہیں پڑتا اپنا دل ظہرابؔ

خدا کا شکر ہے میرے نظارے روشن ہیں