Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- درد تیرا تھا ترے یار سے لگ کر رویایعنی بیمار تھا بیمار سے لگ کر رویاOsama Khalid (b. 1998)
- سخت وحشی ہوں بلا وجہ بپھر جاتا ہوںاس لیے اپنی طرف جاؤں تو ڈر جاتا ہوںOsama Khalid (b. 1998)
- کبھی ہوتا ہے پریشاں کبھی شرماتا ہےآئینہ میرے خد و خال سے گھبراتا ہےOsama Khalid (b. 1998)
- میرا سایہ بھی اگر باب طرب تک آیاکہنا بد نام زمانہ تھا نسب تک آیاOsama Khalid (b. 1998)
- اس سے پہلے کہ کوئی اور ہٹا دے مجھ کواپنے پہلو سے کہیں دور بٹھا دے مجھ کوBalmohan panday (b. 1998)
- ٹوٹے دل سے کوئی امید لگا کر رکھنااتنا آسان نہیں پھول پہ پتھر رکھناBalmohan panday (b. 1998)
- سب کے ہونٹوں پہ یہ مرنے کی دعائیں کیسیچارہ گر تو نے ہمیں دیں ہیں دوائیں کیسیBalmohan panday (b. 1998)
- عیش ماضی کے گنا حال کا طعنہ دے دےگھر پلٹنے کے لیے کوئی بہانہ دے دےBalmohan panday (b. 1998)
- میں بہت سادہ تھا ہر بات کو سادہ سمجھاپھول کو پھول کہا تارے کو تارا سمجھاBalmohan panday (b. 1998)
- بندگی میں جو حبیبوں کی رہا سر میراتھوپنے کے لئے الزام ملا سر میراJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- دشمنوں سے نہ سگے بھائی سے گھبراتے ہیںجو برے لوگ ہیں سچائی سے گھبراتے ہیںUbaid Najibabadi (b. 1998)
- قافلے لٹ گئے سر نوک سناں تک پہنچےجب بہاروں کے طلب گار خزاں تک پہنچےJaani Lakhnavi (b. 1998)
- جب بہایا ہی نہیں آنکھ سے پانی میں نےایک ہی لفظ میں لکھ دی ہے کہانی میں نےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- حادثے زیست کے اس دل میں جو گھر کرتے ہیںدشت آغوش میں وہ عمر بسر کرتے ہیںUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- زندگی تو نے عجب بات یہ بتلائی ہےاک قیامت ہے بپا شہر میں رسوائی ہےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- یوں نہ ہو اب کہ ترا غم مجھے بنجر کر دےآج چھو کر مجھے صحرا سے سمندر کر دےUmood Abrar Ahmad (b. 1999)
- سچ کہیں آپ سے ہم پیار نہیں کرتے ہیںاس لئے عشق کا اظہار نہیں کرتے ہیںVihan Gupta Garg (b. 1999)
- نام اتنا بھی کسی کا نہ اچھالا جائےرنج و غم بھی جو سنبھالے نہ سنبھالا جائےVihan Gupta Garg (b. 1999)
- شام ہوتے ہی ٹھکانے پہ بھی آ سکتا ہےدل پرندہ ہے نشانے پہ بھی آ سکتا ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- اک دیا دل میں جلاتا ہے چلا جاتا ہےوہ مجھے دیکھ کے رکتا ہے چلا جاتا ہےFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- میں نے دنیا میں فقط دیکھے ہیں جانے والےمیں نے دیکھے ہی نہیں ہیں کبھی آنے والےFaisal Imtiyaz Khan (b. 2001)
- خواب کی کوکھ میں پلتے ہوئے رو پڑتے ہیںنیند میں پہلو بدلتے ہوئے رو پڑتے ہیںYasir Guman (b. 2001)
- میرا حصہ تھا مرے دل کا مکیں تھا پہلےیہ جو اک زخم ہے یہ زخم نہیں تھا پہلےYasir Guman (b. 2001)
- شاعری کیا ہے سخن ساز کسے کہتے ہےشاعری نیند نہیں اور کوئی خواب نہیںYasir Guman (b. 2001)
- ہم ہیں بنیاد تو ہر شخص منارے جیساہم کو ملتا ہی نہیں کوئی ہمارے جیساVakeel Ahmad Hayat (b. 2001)
- ریزہ ریزہ میں سر راہ بکھر جاؤں گاتم سے گر دور رہوں گا تو میں مر جاؤں گاFaisal Farooq (b. 2002)
- دامن گل میں وہ تھی اشک فشانی کی طرحمیں نے چاہا تھا جسے رات کی رانی کی طرحDard Faiz Khan (b. 2003)
- ناؤ کاغذ کی سہی کچھ تو نظر سے گزرےاس سے پہلے کہ یہ پانی مرے سر سے گزرےSaadullah Kaleem (b. 2004)
- بادشاہوں کو سکھایا ہے قلندر ہوناآپ آسان سمجھتے ہیں منور ہوناMunawwar Rana
- چھاؤں مل جائے تو کم دام میں بک جاتی ہےاب تھکن تھوڑے سے آرام میں بک جاتی ہےMunawwar Rana
- ساری دولت ترے قدموں میں پڑی لگتی ہےتو جہاں ہوتا ہے قسمت بھی گڑی لگتی ہےMunawwar Rana
- کالے کپڑے نہیں پہنے ہیں تو اتنا کر لےاک ذرا دیر کو کمرے میں اندھیرا کر لےMunawwar Rana
- کچھ کھلونے کبھی آنگن میں دکھائی دیتےکاش ہم بھی کسی بچے کو مٹھائی دیتےMunawwar Rana
- گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیںلڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیںMunawwar Rana
- مجھ کو گہرائی میں مٹی کی اتر جانا ہےزندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہےMunawwar Rana
- وہ بچھڑ کر بھی کہاں مجھ سے جدا ہوتا ہےریت پر اوس سے اک نام لکھا ہوتا ہےMunawwar Rana
- ہم کچھ ایسے ترے دیدار میں کھو جاتے ہیںجیسے بچے بھرے بازار میں کھو جاتے ہیںMunawwar Rana
- کیا ضروری ہے کہ ہم فون پہ باتیں بھی کریںکیا ضروری ہے کہ ہر لفظ مہکنے بھی لگےMunawwar Rana
- جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہےماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہےMunawwar Rana
- چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہےمیں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہےMunawwar Rana
- اک گھڑی وصل کی بے وصل ہوئی ہے مجھ میںکس کے آنے کی خبر قتل ہوئی ہے مجھ میںSaleem Kausar
- تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتاپر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتاSaleem Kausar
- چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سےدل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سےSaleem Kausar
- دل تجھے ناز ہے جس شخص کی دل داری پردیکھ اب وہ بھی اتر آیا اداکاری پرSaleem Kausar
- دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گادور افتادہ زمینوں کی مسافت دوں گاSaleem Kausar
- کچھ بھی تھا سچ کے طرف دار ہوا کرتے تھےتم کبھی صاحب کردار ہوا کرتے تھےSaleem Kausar
- کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سےہم بھرے شہر کی خلوت میں ملے ہیں تجھ سےSaleem Kausar
- میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرےمیرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرےSaleem Kausar
- اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائےیعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائےPirzada Qasim
- حجرۂ ذات سے باہر تو نکل کر دیکھوتم کسی دوسرے پیکر میں بھی ڈھل کر دیکھوPirzada Qasim