میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرے

Saleem Kausar

میں اسے تجھ سے ملا دیتا مگر دل میرے

میرے کچھ کام نہیں آئے وسائل میرے

وہ جنوں خیز مسافت تھی کہ دیکھا ہی نہیں

عمر بھر پاؤں سے لپٹی رہی منزل میرے

تو ملا ہے تو نکل آئے ہیں دشمن سارے

وقت کس کس کو اٹھا لایا مقابل میرے

ابر گریہ نے وہ طوفان اٹھائے اب کے

میرے دریاؤں کو کم پڑ گئے ساحل میرے

جتنا حل کرتا ہوں اتنا ہی بگڑ جاتے ہیں

تو نہیں جانتا اے دوست مسائل میرے

عشق میں ہار کے معنی ہی بدل جاتے ہیں

تجھ کو معلوم نہیں ہے ابھی قاتل میرے

بے انت سفر میرا مقدر ہے سلیمؔ

مجھ میں طے کرتا ہے یہ کون مراحل میرے