کیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سے
Saleem Kausarکیسے ہنگامۂ فرصت میں ملے ہیں تجھ سے
ہم بھرے شہر کی خلوت میں ملے ہیں تجھ سے
سائے سے سایا گزرتا ہوا محسوس ہوا
اک عجب خواب کی حیرت میں ملے ہیں تجھ سے
اتنا شفاف نہیں ہے ابھی عکس دل و جاں
آئینے گرد مسافت میں ملے ہیں تجھ سے
اس قدر تنگ نہیں وسعت صحرائے جہاں
ہم تو اک اور ہی وحشت میں ملے ہیں تجھ سے
جز غم عشق کوئی کام نہیں ہے سو اے حسن
جب ملے اک نئی حالت میں ملے ہیں تجھ سے
وقت کا سیل رواں روک ہی لیں گے شاید
وہ جو پھر ملنے کی حسرت میں ملے ہیں تجھ سے
اتنا خوش فہم نہ ہو اپنی پذیرائی پر
ہم کسی اور محبت میں ملے ہیں تجھ سے
یاد کا زخم بھی ہم تجھ کو نہیں دے سکتے
دیکھ کس عالم غربت میں ملے ہیں تجھ سے
اب اگر لوٹ کے آئے تو ذرا ٹھہریں گے
ہم مسافر ہیں سو عجلت میں ملے ہیں تجھ سے