خواب کی کوکھ میں پلتے ہوئے رو پڑتے ہیں

Yasir Guman (b. 2001)

خواب کی کوکھ میں پلتے ہوئے رو پڑتے ہیں

نیند میں پہلو بدلتے ہوئے رو پڑتے ہیں

مجھ سے چھپ کر میرے کاندھوں کے فرشتے اکثر

گھر کے آنگن میں ٹہلتے ہوئے رو پڑتے ہیں

اے پری زاد تری یاد میں بیٹھے ہم لوگ

ہاتھ کو ہاتھ سے ملتے ہوئے رو پڑتے ہیں

روز اک یاد ہمیں زخم دیا کرتی ہے

روز اک یاد میں جلتے ہوئے رو پڑتے ہیں

صبح کی گود کے پالے ہوئے منظر اکثر

ہجر کی رات میں ڈھلتے ہوئے رو پڑتے ہیں

دیکھ کر شہر کی گلیوں کے مناظر خونیں

شہر آشوب میں چلتے ہوئے رو پڑتے ہیں

اتنے مانوس ہیں ہم کوچۂ جاناں سے گمانؔ

ہم ترے گھر سے نکلتے ہوئے رو پڑتے ہیں