نام اتنا بھی کسی کا نہ اچھالا جائے

Vihan Gupta Garg (b. 1999)

نام اتنا بھی کسی کا نہ اچھالا جائے

رنج و غم بھی جو سنبھالے نہ سنبھالا جائے

چاہتا ہوں کہ مرے آگ میں جلتے گھر کا

میرے دشمن کے صحن تک بھی اجالا جائے

دیکھ کر ہم کو گزرتے ہیں وہ ایسے جیسے

راہ پر پسرے فقیروں کو جو ٹالا جائے

تیری دنیا سے نہ لینا ہے نہ دینا کچھ بھی

تیری دنیا میں ترا چاہنے والا جائے

سوچتا ہوں کہ اسے بھول ہی جاؤں آخر

کیسے بتلاؤں مجھے درد کو پالا جائے