دامن گل میں وہ تھی اشک فشانی کی طرح

Dard Faiz Khan (b. 2003)

دامن گل میں وہ تھی اشک فشانی کی طرح

میں نے چاہا تھا جسے رات کی رانی کی طرح

مثل خواہش جنہیں میں رکھتا ہوں افسوس کہ وہ

میری یادیں بھی نہیں رکھتے نشانی کی طرح

اس کو سمجھاؤں تو کیسے جو رہا دل میں مرے

نہ ہی الفاظ کی صورت نہ معانی کی طرح

فن کا دعویٰ وہ کیا کرتے ہیں حیرت ہے مجھے

غالبؔ و ذوقؔ کے جیسے ہیں نہ فانیؔ کی طرح

کربلا میں جو مدینے کے مسافر پہونچے

خون پھر ان کا بہایا گیا پانی کی طرح

فیضؔ غزلوں کو سلیقے سے سنوارا میں نے

میرا ہر شعر ہے دریا کی روانی کی طرح