دل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گا
Saleem Kausarدل سیماب صفت پھر تجھے زحمت دوں گا
دور افتادہ زمینوں کی مسافت دوں گا
اپنے اطراف نیا شہر بساؤں گا کبھی
اور اک شخص کو پھر اس کی حکومت دوں گا
اک دیا نیند کی آغوش میں جلتا ہے کہیں
سلسلہ خواب کا ٹوٹے تو بشارت دوں گا
قصۂ سود و زیاں وقف مدارات ہوا
پھر کسی روز ملاقات کی زحمت دوں گا
میں نے جو لکھ دیا وہ خود ہے گواہی اپنی
جو نہیں لکھا ابھی اس کی بشارت دوں گا
ایک صفحہ کہیں تاریخ میں خالی ہے ابھی
آخری جنگ سے پہلے تمہیں مہلت دوں گا