ٹوٹے دل سے کوئی امید لگا کر رکھنا
Balmohan panday (b. 1998)ٹوٹے دل سے کوئی امید لگا کر رکھنا
اتنا آسان نہیں پھول پہ پتھر رکھنا
اس کو عادت یہ پریشان بہت رکھے گی
اس کی عادت تھی مرا ہاتھ پکڑ کر رکھنا
اس کا کیا شکوہ اسے روک نہیں پائے ہم
ایک مفلس کو کہاں آتا ہے زیور رکھنا
ہائے وہ عشق چھپانے کے زمانے موہنؔ
یاد آتا ہے غلط نام سے نمبر رکھنا