تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا

Saleem Kausar

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا بھی نہیں ہو سکتا

پر ترا ساتھ گوارا بھی نہیں ہو سکتا

راستہ بھی غلط ہو سکتا ہے منزل بھی غلط

ہر ستارا تو ستارا بھی نہیں ہو سکتا

پاؤں رکھتے ہی پھسل سکتا ہے مٹی ہو کہ ریت

ہر کنارا تو کنارا بھی نہیں ہو سکتا

اس تک آواز پہنچنی بھی بڑی مشکل ہے

اور نہ دیکھے تو اشارہ بھی نہیں ہو سکتا

تیرے بندوں کی معیشت کا عجب حال ہوا

عیش کیسا کہ گزارا بھی نہیں ہو سکتا

اپنا دشمن ہی دکھائی نہیں دیتا ہو جسے

ایسا لشکر تو صف آرا بھی نہیں ہو سکتا

پہلے ہی لذت انکار سے واقف نہیں جو

اس سے انکار دوبارہ بھی نہیں ہو سکتا

حسن ایسا کہ چکا چوند ہوئی ہیں آنکھیں

حیرت ایسی کہ نظارا بھی نہیں ہو سکتا

چلئے وہ شخص ہمارا تو کبھی تھا ہی نہیں

دکھ تو یہ ہے کہ تمہارا بھی نہیں ہو سکتا

دنیا اچھی بھی نہیں لگتی ہم ایسوں کو سلیمؔ

اور دنیا سے کنارا بھی نہیں ہو سکتا