وہ بچھڑ کر بھی کہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے

Munawwar Rana

وہ بچھڑ کر بھی کہاں مجھ سے جدا ہوتا ہے

ریت پر اوس سے اک نام لکھا ہوتا ہے

خاک آنکھوں سے لگائی تو یہ احساس ہوا

اپنی مٹی سے ہر اک شخص جڑا ہوتا ہے

ساری دنیا کا سفر خواب میں کر ڈالا ہے

کوئی منظر ہو مرا دیکھا ہوا ہوتا ہے

میں بھلانا بھی نہیں چاہتا اس کو لیکن

مستقل زخم کا رہنا بھی برا ہوتا ہے

خوف میں ڈوبے ہوئے شہر کی قسمت ہے یہی

منتظر رہتا ہے ہر شخص کہ کیا ہوتا ہے