Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہےیہ وقت بدلنے کا اشارا تو نہیں ہےFaheem Jogapuri
  2. آنکھوں سے کسی خواب کا رشتہ ہی نہیں تھااس آئنے میں عکس ٹھہرتا ہی نہیں تھاFaheem Jogapuri
  3. اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہممقتل کی سمت جیسے سفر کر رہے ہیں ہمFaheem Jogapuri
  4. اداس ہو گئی شبنم جہاں سحر آئیغم فراق سے پھولوں کی آنکھ بھر آئیFaheem Jogapuri
  5. اگر ہو ظرف سے خالی تو کیا رکھا ہے دریا میںسمندر کو بھی میں نے ڈوبتے دیکھا ہے قطرہ میںFaheem Jogapuri
  6. بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئےاس زمانے کے سخنور بھی مداری ہو گئےFaheem Jogapuri
  7. بے رنگ و نور چاند ہے یوں آسمان میںبھوکا فقیر جیسے خدا کے دھیان میںFaheem Jogapuri
  8. پریشانی کہاں کی اور سکوں کیایہی ہے زندگی تو سر دھنوں کیاFaheem Jogapuri
  9. پڑھی گئی نہ وہ تحریر غم جبینوں سےجو پونچھتی رہی اشکوں کو آستینوں سےFaheem Jogapuri
  10. جب بھی ہنستے ہوئے انکار کیا ہے اس نےدل پہ اک اور نیا وار کیا ہے اس نےFaheem Jogapuri
  11. جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیادنیا کو اس فقیر نے ٹھوکر میں رکھ لیاFaheem Jogapuri
  12. خفیف لب پہ تبسم رکا رکا سا لگےکہ کوئی غنچۂ نو رس کھلا کھلا سا لگےFaheem Jogapuri
  13. خود پی سکی نہ جب تو زمیں کو پلا گئیاک دودھ کے گلاس کو بلی گرا گئیFaheem Jogapuri
  14. خیال و فکر کا صدقہ اتارتے رہئےلہو پلا کے غزل کو سنوارتے رہئےFaheem Jogapuri
  15. دعائیں مانگ رہے ہیں کئی خیال ابھیخدا کے گھر سے فرشتوں کو مت نکال ابھیFaheem Jogapuri
  16. دل کی بستی میں برستا ہے وہ بادل کون ہےکر رہا ہے جو مری آنکھوں کو جل تھل کون ہےFaheem Jogapuri
  17. دوستی میں نہ دشمنی میں ہمکیا نظر آئیں گے کسی میں ہمFaheem Jogapuri
  18. دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئےآج چھن چھن کے اندھیروں سے اجالے آئےFaheem Jogapuri
  19. دیکھتی ہے نگاہ پانی میںتخت عالم پناہ پانی میںFaheem Jogapuri
  20. ذہن جب تیرے تصور میں رواں ہوتا ہےتو بھی بولے تو سماعت پہ گراں ہوتا ہےFaheem Jogapuri
  21. رات کا اب کوئی جادو نہیں چلنے والااک ستارا ہے اسے دن میں بدلنے والاFaheem Jogapuri
  22. سمجھتے ہو جنہیں بے کار کے ہیںوہ پتھر بھی اسی دیوار کے ہیںFaheem Jogapuri
  23. شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہےلوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہےFaheem Jogapuri
  24. غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سےخانہ بربادوں کے آباد ہیں گھر صدیوں سےFaheem Jogapuri
  25. فلک پہ ہنسنے لگے چاند تارے شام کے بعدہمیں اداس ہیں دریا کنارے شام کے بعدFaheem Jogapuri
  26. قبول ہو گئی اس کی دعا تو کیا ہوگااگر وہ بن گیا اک دن خدا تو کیا ہوگاFaheem Jogapuri
  27. کچھ کوہکن جو وقف زر و مال ہو گئےتیشہ بدست ہو کے بھی کنگال ہو گئےFaheem Jogapuri
  28. کون سا دل ہے جو شکار نہیںاے ستم گر ترا شمار نہیںFaheem Jogapuri
  29. کیا کرو گے بچاؤ سورج کاجانتے ہو سبھاؤ سورج کاFaheem Jogapuri
  30. کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیرپھر کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیرFaheem Jogapuri
  31. گزرے تمام عمر عجب امتحاں سے ہمالجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہمFaheem Jogapuri
  32. گھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئےدھوپ رکھنے کے لئے دالان ہونا چاہئےFaheem Jogapuri
  33. مل نہ پائے کہیں تو حیرت کیاتم سمندر ہوئے نہ ہم دریاFaheem Jogapuri
  34. منزل نہیں سفر میں جنون سفر ملےنا معتبر خوشی ہے غم معتبر ملےFaheem Jogapuri
  35. نہ پوچھ کیسے گنوائی ہیں انگلیاں ہم نےاک آئنے کی بٹوری ہیں کرچیاں ہم نےFaheem Jogapuri
  36. وہی شام کے دلاسے وہی صبح کے بہانےشب تار سے فراغت ملے کب خدا ہی جانےFaheem Jogapuri
  37. ہزاروں پردے میں پردہ نہیں ہےوہ جلوہ ہو کے بھی جلوہ نہیں ہےFaheem Jogapuri
  38. ہیں مدتوں سے دیکھنے والوں کے منتظراحساس بے پناہ کی جاگیر اور ہمFaheem Jogapuri
  39. یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلےلے کے گھی ہاتھ میں ہم آگ بجھانے نکلےFaheem Jogapuri
  40. یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانےکون کیا دے کے گیا دست دعا کیا جانےFaheem Jogapuri
  41. بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیںکھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہےFaheem Jogapuri
  42. تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہےنظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیاFaheem Jogapuri
  43. کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیاپیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کرFaheem Jogapuri
  44. کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتےفہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائےFaheem Jogapuri
  45. مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہآنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئےFaheem Jogapuri
  46. ملن کے بعد آتی ہے جدائینرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہےFaheem Jogapuri
  47. نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میرییہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھFaheem Jogapuri
  48. واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سےوہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سےFaheem Jogapuri
  49. ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والوتمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہےFaheem Jogapuri