Poetry
- آنا تھا جسے آج وہ آیا تو نہیں ہےیہ وقت بدلنے کا اشارا تو نہیں ہےFaheem Jogapuri
- آنکھوں سے کسی خواب کا رشتہ ہی نہیں تھااس آئنے میں عکس ٹھہرتا ہی نہیں تھاFaheem Jogapuri
- اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہممقتل کی سمت جیسے سفر کر رہے ہیں ہمFaheem Jogapuri
- اداس ہو گئی شبنم جہاں سحر آئیغم فراق سے پھولوں کی آنکھ بھر آئیFaheem Jogapuri
- اگر ہو ظرف سے خالی تو کیا رکھا ہے دریا میںسمندر کو بھی میں نے ڈوبتے دیکھا ہے قطرہ میںFaheem Jogapuri
- بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئےاس زمانے کے سخنور بھی مداری ہو گئےFaheem Jogapuri
- بے رنگ و نور چاند ہے یوں آسمان میںبھوکا فقیر جیسے خدا کے دھیان میںFaheem Jogapuri
- پریشانی کہاں کی اور سکوں کیایہی ہے زندگی تو سر دھنوں کیاFaheem Jogapuri
- پڑھی گئی نہ وہ تحریر غم جبینوں سےجو پونچھتی رہی اشکوں کو آستینوں سےFaheem Jogapuri
- جب بھی ہنستے ہوئے انکار کیا ہے اس نےدل پہ اک اور نیا وار کیا ہے اس نےFaheem Jogapuri
- جس نے چھپا کے بھوک کو پتھر میں رکھ لیادنیا کو اس فقیر نے ٹھوکر میں رکھ لیاFaheem Jogapuri
- خفیف لب پہ تبسم رکا رکا سا لگےکہ کوئی غنچۂ نو رس کھلا کھلا سا لگےFaheem Jogapuri
- خود پی سکی نہ جب تو زمیں کو پلا گئیاک دودھ کے گلاس کو بلی گرا گئیFaheem Jogapuri
- خیال و فکر کا صدقہ اتارتے رہئےلہو پلا کے غزل کو سنوارتے رہئےFaheem Jogapuri
- دعائیں مانگ رہے ہیں کئی خیال ابھیخدا کے گھر سے فرشتوں کو مت نکال ابھیFaheem Jogapuri
- دل کی بستی میں برستا ہے وہ بادل کون ہےکر رہا ہے جو مری آنکھوں کو جل تھل کون ہےFaheem Jogapuri
- دوستی میں نہ دشمنی میں ہمکیا نظر آئیں گے کسی میں ہمFaheem Jogapuri
- دیر کے ساتھ حرم آئے شوالے آئےآج چھن چھن کے اندھیروں سے اجالے آئےFaheem Jogapuri
- دیکھتی ہے نگاہ پانی میںتخت عالم پناہ پانی میںFaheem Jogapuri
- ذہن جب تیرے تصور میں رواں ہوتا ہےتو بھی بولے تو سماعت پہ گراں ہوتا ہےFaheem Jogapuri
- رات کا اب کوئی جادو نہیں چلنے والااک ستارا ہے اسے دن میں بدلنے والاFaheem Jogapuri
- سمجھتے ہو جنہیں بے کار کے ہیںوہ پتھر بھی اسی دیوار کے ہیںFaheem Jogapuri
- شام خاموش ہے پیڑوں پہ اجالا کم ہےلوٹ آئے ہیں سبھی ایک پرندہ کم ہےFaheem Jogapuri
- غم بھی صدیوں سے ہیں اور دیدۂ تر صدیوں سےخانہ بربادوں کے آباد ہیں گھر صدیوں سےFaheem Jogapuri
- فلک پہ ہنسنے لگے چاند تارے شام کے بعدہمیں اداس ہیں دریا کنارے شام کے بعدFaheem Jogapuri
- قبول ہو گئی اس کی دعا تو کیا ہوگااگر وہ بن گیا اک دن خدا تو کیا ہوگاFaheem Jogapuri
- کچھ کوہکن جو وقف زر و مال ہو گئےتیشہ بدست ہو کے بھی کنگال ہو گئےFaheem Jogapuri
- کون سا دل ہے جو شکار نہیںاے ستم گر ترا شمار نہیںFaheem Jogapuri
- کیا کرو گے بچاؤ سورج کاجانتے ہو سبھاؤ سورج کاFaheem Jogapuri
- کیا کوئی تصویر بن سکتی ہے صورت کے بغیرپھر کسی سے کیوں ملے کوئی ضرورت کے بغیرFaheem Jogapuri
- گزرے تمام عمر عجب امتحاں سے ہمالجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہمFaheem Jogapuri
- گھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئےدھوپ رکھنے کے لئے دالان ہونا چاہئےFaheem Jogapuri
- مل نہ پائے کہیں تو حیرت کیاتم سمندر ہوئے نہ ہم دریاFaheem Jogapuri
- منزل نہیں سفر میں جنون سفر ملےنا معتبر خوشی ہے غم معتبر ملےFaheem Jogapuri
- نہ پوچھ کیسے گنوائی ہیں انگلیاں ہم نےاک آئنے کی بٹوری ہیں کرچیاں ہم نےFaheem Jogapuri
- وہی شام کے دلاسے وہی صبح کے بہانےشب تار سے فراغت ملے کب خدا ہی جانےFaheem Jogapuri
- ہزاروں پردے میں پردہ نہیں ہےوہ جلوہ ہو کے بھی جلوہ نہیں ہےFaheem Jogapuri
- ہیں مدتوں سے دیکھنے والوں کے منتظراحساس بے پناہ کی جاگیر اور ہمFaheem Jogapuri
- یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلےلے کے گھی ہاتھ میں ہم آگ بجھانے نکلےFaheem Jogapuri
- یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانےکون کیا دے کے گیا دست دعا کیا جانےFaheem Jogapuri
- بند کمرے میں ترا درد نہ بجھ جائے کہیںکھڑکیاں کھول کہ یہ آگ ہوا چاہتی ہےFaheem Jogapuri
- تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہےنظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیاFaheem Jogapuri
- کتنے طوفانوں سے ہم الجھے تجھے معلوم کیاپیڑ کے دکھ درد کا پھولوں سے اندازہ نہ کرFaheem Jogapuri
- کسی کے در پہ سجدہ کرتے کرتےفہیمؔ ایسا نہ ہو سر ٹوٹ جائےFaheem Jogapuri
- مرگھٹ پتھ پر دیکھ کے ہم کو جانے کیا کیا سوچیں وہآنکھوں سے کیا پنیہ کمائے ہونٹوں سے کیا دان ہوئےFaheem Jogapuri
- ملن کے بعد آتی ہے جدائینرک بھی سورگ سے کتنا نکٹ ہےFaheem Jogapuri
- نہ بات دل کی سنوں میں نہ دل سنے میرییہ سرد جنگ ہے اپنے ہی اک مشیر کے ساتھFaheem Jogapuri
- واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سےوہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سےFaheem Jogapuri
- ہم اہل غم کو حقارت سے دیکھنے والوتمہاری ناؤ انہیں آنسوؤں سے چلتی ہےFaheem Jogapuri