منزل نہیں سفر میں جنون سفر ملے

Faheem Jogapuri

منزل نہیں سفر میں جنون سفر ملے

نا معتبر خوشی ہے غم معتبر ملے

ہم نے تو یوں کسی پہ بھروسا نہیں کیا

پھر بھی کوئی ملا تو بہت ٹوٹ کر ملے

دنیا میں عشق ہی سے ملی دولت حیات

اور عشق ہی سے فتنۂ شام و سحر ملے

بچپن شباب اور ضعیفی کے تین پل

لمحے جو زندگی کو ملے مختصر ملے

اس آدمی کو قصۂ رنگ حنا سے کیا

جو اپنے خوں میں ڈوبا ہوا سربسر ملے

یہ دل کی آرزو ہے کہ میری جبین شوق

خوں سے وضو کرے جو ترا سنگ در ملے

ہر پل ہے زندگی سے پریشان آدمی

پھر بھی یہ آرزو ہے کہ بار دگر ملے

پیش خطا یہ سوچنا ایسا نہ ہو کہیں

اک لمحے کی خطا کی سزا عمر بھر ملے

طوفان بحر سے کوئی شکوہ نہیں فہیمؔ

ہم کو تو اپنی ناؤ کے اندر بھنور ملے