یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلے

Faheem Jogapuri

یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلے

لے کے گھی ہاتھ میں ہم آگ بجھانے نکلے

ہم فقیروں کے قلم سے جو خزانے نکلے

جھولیاں لے کے شہنشاہ چرانے نکلے

جیسے جنگل میں کوئی رات بتانے نکلے

گھر سے نکلے تو لگا جان گنوانے نکلے

اپنی حالت کا اب احساس ہوا ہے ایسے

جیسے چھپر کوئی برسات میں چھانے نکلے

بھوکی دھرتی کی انا آ گئی دامن میں مگر

سارے آکاش میں دو چار ہی دانے نکلے

کچھ تھکے ماندوں پہ کتوں کا برسنا دیکھا

جب وہ فٹ پاتھ پہ اخبار بچھانے نکلے

خود کو سمجھاتے ہوئے شہر سے یوں لوٹے ہیں

جیسے پردیس کوئی گھر سے کمانے نکلے

ایسے انساں سے ملاقات نہ کرنا بہتر

دل کے آنگن میں جو دیوار اٹھانے نکلے

سادے لوگوں کو بہت تنگ کیا ہے تو نے

ہم ہی دیوانوں سے بل تیرے زمانے نکلے

شعر کہتے ہیں جسے بات وہیں ختم ہوئی

ہم تو بس میرؔ کی اک رسم نبھانے نکلے