وہی شام کے دلاسے وہی صبح کے بہانے
Faheem Jogapuriوہی شام کے دلاسے وہی صبح کے بہانے
شب تار سے فراغت ملے کب خدا ہی جانے
کہاں وہ خفا خفا تھے کہاں آ گئے منانے
مری جیت بن گئے ہیں مری ہار کے زمانے
نہیں فصل گل کا شیدا مری خواہشوں کا موسم
گل دل کروں جو ارپن مرا دیوتا نہ جانے
شب غم بدل گئی ہے رخ کہکشاں کی صورت
تری یاد سے ہیں روشن مرے غم کے خانے خانے
تری زلف عنبریں تو وہ متاع دل کشی ہے
جسے رات نے چرا لی جسے مانگ لی گھٹا نے
تجھے پا کے بھی نہ پانا تجھے کھو کے پھر مچلنا
یہی الجھنوں کے پھیرے یہی جینے کے بہانے
جو ستم ہے ان کی فطرت تو ہے صبر اپنی عادت
دیا جور و ظلم ان کو ہمیں حوصلہ خدا نے
تری آنکھ کے یہ ساغر لب ناز کے کٹورے
مرے نام آج کر دے یہ سبھی شراب خانے
مرے دل میں اے فہیمؔ اب اٹھے ہیں جو درد پیہم
مجھے یاد آ رہے ہیں وہ شباب کے زمانے