گھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئے
Faheem Jogapuriگھر بناتے وقت اس کا دھیان ہونا چاہئے
دھوپ رکھنے کے لئے دالان ہونا چاہئے
تنگ گلیوں کی طرح ہرگز نہ رسم و راہ ہو
دوستی میں دل کھلا میدان ہونا چاہئے
خوب صورت گفتگو کیا استعاروں کے بغیر
اس صحیفے کے لئے جزدان ہونا چاہئے
ہو سکے تازہ ہوا کا محبس جاں میں گزر
دل کی دیواروں میں روشن دان ہونا چاہئے
صرف گل پوشی نہیں ہے میہمانی کی دلیل
میزباں کی آنکھ میں گلدان ہونا چاہئے
صاحب فہم و درک ہونے پہ بھی اولاد کو
باپ ماں کے سامنے نادان ہونا چاہئے
چند لمحوں کو ٹھہرنا ہے یہاں جبکہ فہیمؔ
کم بہت ہی کم سر و سامان ہونا چاہئے