مل نہ پائے کہیں تو حیرت کیا

Faheem Jogapuri

مل نہ پائے کہیں تو حیرت کیا

تم سمندر ہوئے نہ ہم دریا

موج در موج ہے یہی چرچا

کشتیوں سے ملا ہے کیوں دریا

عمر بھر کا حساب تھا ان سے

چند لمحوں میں پوچھتے کیا کیا

میرے گھر کا چراغ بجھتے ہی

چڑھ گیا کتنا بھاؤ سورج کا

تشنہ لب ہوں کوئی فقیر نہیں

مت حقارت سے دیکھ اے دریا

پوچھ بیٹھے جو کیا دیا تو نے

زندگی کا اتر گیا چہرہ

سب کی دنیا تباہ کرتے ہو

تم بھی کیا ہو گئے ہو امریکہ

مدتوں سے تلاش میں ہوں فہیمؔ

کھو گیا ہے کہاں مرا چہرہ