گزرے تمام عمر عجب امتحاں سے ہم
Faheem Jogapuriگزرے تمام عمر عجب امتحاں سے ہم
الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم
اس آئنے کو موسم گل کی تلاش ہے
عہد شباب ڈھونڈ کے لائیں کہاں سے ہم
جیسے وہ آسمان ہی مٹھی میں آ گیا
تھے اتنا خوش گمان کسی بد گماں سے ہم
آوارگیٔ شوق میں سود و زیاں ہے کیا
یہ کاروبار سیکھ رہے ہیں دھواں سے ہم
تنقید کر رہے ہیں اسی کی زبان پر
الفاظ لے کے آئے ہیں جس داستاں سے ہم
جو نگہ انتخاب کے قابل نہ تھا کبھی
آنکھیں لڑانے بیٹھ گئے اس جہاں سے ہم
اقرار کو بنا گئے انکار وہ فہیمؔ
کہتے تھے جو پلٹتے نہیں ہیں بیاں سے ہم