یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانے

Faheem Jogapuri

یہ فقیری ہے قناعت کے سوا کیا جانے

کون کیا دے کے گیا دست دعا کیا جانے

آگ تن میں تو لگا لینا کوئی کھیل ہے کیا

کتنے مجبور دیے ہوں گے ہوا کیا جانے

اس کو کرنا ہے تہ خاک سو کرتی جائے

کون ہے سیم بدن موج بلا کیا جانے

وہ تو دریاؤں کو سیراب کئے جاتی ہے

سوکھے کھیتوں کی ضرورت کو گھٹا کیا جانے

اشک آنکھوں میں بھرے ہوں تو نظارا کیسا

کانپتا ہاتھ کوئی بند قبا کیا جانے

کوئی زندہ نہ بچے وہ تو یہی چاہتے ہیں

کتنا سنتا ہے خداؤں کا خدا کیا جانے

اس سے پہلے جو کبھی چومتے پھولوں کو فہیمؔ

کون سا غم ہے ہمیں باد صبا کیا جانے