ہزاروں پردے میں پردہ نہیں ہے

Faheem Jogapuri

ہزاروں پردے میں پردہ نہیں ہے

وہ جلوہ ہو کے بھی جلوہ نہیں ہے

وجود غیر ہے اپنا نہیں ہے

وہی قطرہ ہے جو دریا نہیں ہے

انا الحق میں برائی کیا ہے واعظ

محبت میں خدا کیا کیا نہیں ہے

لٹا دے جلوہ اے حسن سراپا

نگاہوں پر کوئی پہرہ نہیں ہے

سفیران محبت جانتے ہیں

کہ منزل ہے مگر رستہ نہیں ہے

عجب یہ مسئلہ ہے میکشوں کا

کبھی ساقی کبھی صہبا نہیں ہے

گلوں کے دم سے ہے پندار ہستی

ابھی نکہت نے یہ سمجھا نہیں ہے

مری آنکھوں کی دنیا کو تو دیکھو

جہاں تم نے ابھی دیکھا نہیں ہے

اسے جس نام سے چاہو پکارو

محبت کا کوئی فرقہ نہیں ہے

مری ہر سانس ہے منسوب اس سے

مری قسمت میں جو لکھا نہیں ہے

غم ماضی پہ ماتم کرنے والو

غم ماضی غم فردا نہیں ہے