ہیں مدتوں سے دیکھنے والوں کے منتظر
Faheem Jogapuriہیں مدتوں سے دیکھنے والوں کے منتظر
احساس بے پناہ کی جاگیر اور ہم
کوشش نہ کام آئے گی یہ کس نے کہہ دیا
بیٹھے بٹھائے مان لیں تقدیر اور ہم
ممکن کہاں کوئی نظر انداز کر سکے
باہم رہے ہیں شہر کی توقیر اور ہم
جائیں گے ایک روز سمندر کی گود میں
دریا کے ساتھ ریت کی تحریر اور ہم
فرصت کہاں کہ اور کہیں دیکھیے فہیمؔ
ہر سانس اپنی خاک کی تعمیر اور ہم