نہ پوچھ کیسے گنوائی ہیں انگلیاں ہم نے

Faheem Jogapuri

نہ پوچھ کیسے گنوائی ہیں انگلیاں ہم نے

اک آئنے کی بٹوری ہیں کرچیاں ہم نے

ہماری تشنہ لبی کیا مٹائے گا دریا

سمندروں کی اڑا دی ہیں دھجیاں ہم نے

کھنکتی آ گئیں کس طرح رات بستر پر

چھپا کے دل میں رکھی تھیں یہ چوڑیاں ہم نے

اس آئنے میں نہ ابھرے گا اب کوئی چہرہ

تمہارے گھر کی بجھا دی ہیں بتیاں ہم نے

بچھا کے دل کے تعلق پہ برف کی چادر

نئے لحاف سے کاٹی ہیں سردیاں ہم نے

سبھی سے ہاتھ ملائے گلے سبھی سے ملے

سزائیں دو کہ بہت کی ہیں غلطیاں ہم نے

اجالے مانگنے سورج سے کون جائے فہیمؔ

کسی کے پاؤں پہ رکھیں نہ پگڑیاں ہم نے