کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا

Qamar Gwaliari

کیا زندگی ہے کوئی سزا سوچنا پڑا

کیوں مانگتے ہیں لوگ دعا سوچنا پڑا

تیرا بدن یہ تیری جوانی ترا چلن

کس کس کو لگ رہی ہے ہوا سوچنا پڑا

سب کے بدن لباس سے باہر نکل نہ آئیں

یہ ڈنک کون مار گیا سوچنا پڑا

بے کس غریب پر کہ غریبی ہٹاؤ پر

سرمایہ دار کس پہ ہنسا سوچنا پڑا

کیا وہ ہے بےوقوف کہ جو بولتا ہے سچ

اس بات کو سمجھنا پڑا سوچنا پڑا

قاتل نے آج پھینک دی تلوار کیوں قمرؔ

کاٹا تھا اس نے کس کا گلا سوچنا پڑا