کوئی رشتہ ترے پیمان سے جوڑا جائے
Naeem Naazکوئی رشتہ ترے پیمان سے جوڑا جائے
اب مرے ہجر کو عنوان سے جوڑا جائے
قصۂ حسن کو کنعان سے جوڑا جائے
عشق کو پھر کسی زندان سے جوڑا جائے
یہ تو پنچھی ہیں نئی رت میں پلٹ جائیں گے
ربط کیسے کسی مہمان سے جوڑا جائے
اشک سینے سے روانہ ہوئے آنکھوں کی طرف
ان کی طغیانی کو طوفان سے جوڑا جائے
تری تہذیب سے وحشت کو بھی خوف آتا ہے
تری بستی کو بیابان سے جوڑا جائے