آدمی وہ بھلا نہیں ہوتا
Qamar Gwaliariآدمی وہ بھلا نہیں ہوتا
جس کا دل آئنہ نہیں ہوتا
آدمی سے خطا تو ہوتی ہے
آدمی دیوتا نہیں ہوتا
راستے پھر نئے نکلتے ہیں
جب کوئی رہنما نہیں ہوتا
درد دل سے جدا نہیں ہوگا
درد دل سے جدا نہیں ہوتا
کچھ کمی ہے کہیں تو کوئی قمرؔ
یہ چمن کیوں ہرا نہیں ہوتا