پناہ ڈھونڈ رہا ہے ہر اک مکاں کی طرف

Qamar Gwaliari

پناہ ڈھونڈ رہا ہے ہر اک مکاں کی طرف

کہ بچہ دوڑ کے آتا ہے جیسے ماں کی طرف

عمل سے آپ کے قدموں میں کہکشاں ہوگی

یہ کیا کہ دیکھا کریں آپ کہکشاں کی طرف

لہو سے سینچا ہوا گلستاں مٹے گا نہیں

ہوائیں گرم چلیں لاکھ گلستاں کی طرف

خبر یہ سب کو ہے پانی نہیں سراب ہے وہ

مگر ہیں پھر بھی سبھی سعیٔ رائیگاں کی طرف

ہٹا رہے ہو یہ تنکے تو سوچو کیا ہوگا

پرندے آئیں گے جس وقت آشیاں کی طرف

یہ رہنماؤں کے بخشے ہوئے اندھیرے ہیں

ہمیں پتا نہیں ہم چل پڑے کہاں کی طرف

کسی نے پیروں سے کچلا کوئی گلاب قمرؔ

مری نگاہ نے دیکھا ہے آسماں کی طرف