قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعد

Raj Bahadur Saxena Auj

قدر وفا بھی ہوگی کسی دن جفا کے بعد

لائے گا رنگ خون شہیداں حنا کے بعد

ہوتا ہے انقلاب جہاں ہر ادا کے بعد

بے باک بھی بنوگے کبھی تم حیا کے بعد

لائے ہیں پھول اہل محبت کی قبر پر

کیا یاد آ گیا انہیں ترک جفا کے بعد

کعبہ میں مجھ سے شان بتاں پوچھتے ہو شیخ

توبہ میں ان کا ذکر کروں گا خدا کے بعد

ان کی کمر کا کوئی پتہ ہی نہیں کہیں

یہ دوسرا طلسم نظر ہے ہما کے بعد

بیٹھی ہے لے کے اب مجھے آغوش میں زمیں

آرام سے ہوں کنج لحد میں قضا کے بعد

اہل وفا ملے گا نہ مجھ سا جہان میں

پچھتائیں گے وہ اوجؔ خود آخر جفا کے بعد