شعور زندہ ہے میرا نظر سلامت ہے

M. J. Khalid

شعور زندہ ہے میرا نظر سلامت ہے

تری دعا کا ابھی تک اثر سلامت ہے

مرے پڑوس میں کچھ سنگ دل تو ہیں لیکن

ابھی تلک مرے شیشے کا گھر سلامت ہے

یہ کم نہیں ہے مری فکر معتبر کے لئے

قدم قدم یہی رقص شرر سلامت ہے

جہاں کو فخر ہے تمغوں کی جگمگاہٹ پر

مجھے ہے ناز کہ میرا ہنر سلامت ہے

مخالفوں کی ہے شاید کوئی نئی سازش

کہ میرے شانوں پہ میرا یہ سر سلامت ہے