اسے چھپا لیا تھا میں نے آنکھ میں
Naeem Naazاسے چھپا لیا تھا میں نے آنکھ میں
یہ لوگ خواب میں بھی جھانکنے لگے
مہک رہے ہیں یوں تو پھول اور بھی
مگر جو زخم تیرے ہاتھ سے لگے
میں جس لگن سے تجھ کو دیکھتا ہوں لوگ
اسی لگن سے مجھ کو دیکھنے لگے
تمہارے بعد کچھ نہیں کیا گیا
ہم اپنے ساتھ وقت کاٹنے لگے
چھوا تھا ایک بار اس کے ہاتھ کو
پھر اس کے بعد پھول کھردرے لگے