جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں

Qaisar Qalandar

جب درد کی شمعیں جلتی ہیں احساس کے نازک سینے میں

اک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہا تنہا جینے میں

کچھ لطف کی گرمی کی خاطر کچھ جان وفا کے صدقے میں

گیسوئے الم کے سائے میں راحت سی ملی ہے پینے میں

آغوش تمنا چھو آئیں جب زلف یار کی خوشبو میں

آنکھوں میں ساون لہرایا دیپک سا سلگا سینے میں

موسیقیٔ حسن کی موجیں تھی کچھ آنکھوں میں کچھ پیالوں میں

جو ساحل دل تک ہو آئیں یادوں کے ایک سفینے میں

پلکوں میں سلگتے تاروں سے میں رات کی افشاں چن نہ سکا

شعلوں کو چھپائے پھرتا ہوں میں دل کے ایک نگینے میں

وہ رنگ حیا احساس طرب آئینۂ رخ کے عکس فگن

اک تابش تیرے چہرے کی اک آنچ سی میرے سینے میں

کلیوں نے گھونگھٹ سرکائے شبنم نے موتی رول دئے

لذت سی ملی ہے اشکوں سے یہ چاک جگر کا سینے میں

نغموں کی چاندنی چھٹکی ہے شعروں کے شبستاں مہکے ہیں

پھر ساز غزل لے آیا ہوں اک لطف ہے اکثر جینے میں