اس تیرہ سرزمیں سے مثال قمر چلو
Qaisar Qalandarاس تیرہ سرزمیں سے مثال قمر چلو
دیکھو فراز نور و نشیب سفر چلو
بانہیں اٹھائے یاد کوئی دل نواز یاد
تم کو پکارتی ہے سر رہ گزر چلو
دیکھو وہ کربلائے تمنا ہے اس طرف
صحرا لہو لہو ہے چلو بے خطر چلو
آنکھوں میں آرزو کے جلاتے رہو چراغ
تاریکیوں سے نور اگاؤ مگر چلو
کہرام خواہشوں کا بپا ہے قدم قدم
اپنی متاع درد لیے سوچ کر چلو
ہر منظر حیات یہاں ہے شفق شفق
رنگ حنا سے تم نہ بچا کر نظر چلو
شائستۂ بہار ہے ہر منظر خزاں
نغموں کا شامیانہ سجے نغمہ گر چلو
میں شوق نا تمام ہوں اک حسن ناتمام
میرے لیے کرو نہ کبھی آنکھ تر چلو