ہوا بدن میں کسی یاد کی چلی جب بھی
Naeem Naazہوا بدن میں کسی یاد کی چلی جب بھی
مجھے لگا مجھے چھو کر گزر گیا ہے کوئی
میں ایک برگ تھا اور پیڑ سے جھڑا ہوا تھا
یہاں وہاں کی ہوا مجھ کو لے کے اڑتی پھری
گئے ہوؤں نے پلٹ کر کبھی نہیں دیکھا
یہ جانتے ہوئے بھی دل نے ضد نہیں چھوڑی
ادھر ادھر کی سنی تو خیال بٹنے لگا
ذرا سا شور تھما تو فضا بدلنے لگی
عجیب حالت دل ہے کہ کچھ خبر ہی نہیں
میں دل گرفتہ نہیں ہوں تو کیوں یہ حبس دمی