تمام وحشتیں میری بڑھا کے چھوڑ گیا
Kalicharan Singhتمام وحشتیں میری بڑھا کے چھوڑ گیا
وہ مجھ کو صحرا میں دریا دکھا کے چھوڑ گیا
ہوا بھی پردہ ہلائے تو ہو گماں اس کا
وہ جاتے جاتے یوں پردہ ہلا کے چھوڑ گیا
کوئی بتائے کہ کیسے گزارا ہو اپنا
ہمیں جہاں میں وہ اچھا بنا کے چھوڑ گیا
وفا پرست کہوں یا کہ بے وفا اس کو
عجیب شخص تھا وعدہ نبھا کے چھوڑ گیا
کل ایک خواب جو آیا تھا میری آنکھوں میں
تمہارے شہر کا نقشہ بنا کے چھوڑ گیا