انسان کو انساں سے کچھ کام نہیں ہوتا
Qamar Gwaliariانسان کو انساں سے کچھ کام نہیں ہوتا
دنیا میں محبت کا جب نام نہیں ہوتا
یہ کیسی حقیقت ہے اے دوست محبت میں
آغاز تو ہوتا ہے انجام نہیں ہوتا
تم سے تو نہ کچھ ہوگا اے چارہ گرو جاؤ
بیمار محبت کو آرام نہیں ہوتا
یہ منزل آخر ہے آ جاؤ عیادت کو
آ جانے سے ایسے میں الزام نہیں ہوتا
لازم ہے سمجھ لینا نظروں کی زباں صاحب
لفظوں سے محبت میں کچھ کام نہیں ہوتا
بڑھتے ہوئے دھارے ہوں برپا ہو قمرؔ طوفاں
ہمت سے جو بڑھ جائے ناکام نہیں ہوتا