پھر جلا کوئی آشیاں صاحب

Qamar Gwaliari

پھر جلا کوئی آشیاں صاحب

پھر فضا ہے دھواں دھواں صاحب

ہے ضمیر ایک آئنے کی طرح

دیکھیے اپنی خامیاں صاحب

آپ کا ساتھ کیا ہوا ہے نصیب

میرا رستہ ہے کہکشاں صاحب

صرف آنکھوں سے بات ہوتی ہے

عشق رکھتا نہیں زباں صاحب

جب برائی کو اس نے بویا ہے

کیسے کاٹے وہ نیکیاں صاحب

پیڑ اب چھاؤں دے نہیں سکتا

توڑ ڈالی ہیں ڈالیاں صاحب

کیا حقیقت ہے سامنے آئے

لیں قمرؔ کا بھی امتحاں صاحب