جانے کیا درمیان ٹوٹ گیا
Kalicharan Singhجانے کیا درمیان ٹوٹ گیا
چھت تو ہے پر مکان ٹوٹ گیا
زندگی کا گمان ٹوٹ گیا
سر پہ اک آسمان ٹوٹ گیا
تھک گیا بول کر وہ آنکھوں سے
اور پھر بے زبان ٹوٹ گیا
میرے حق کی تھی بات سو اس کے
لب پہ آ کر بیان ٹوٹ گیا
بات عدالت تک آ گئی یعنی
اور اک خاندان ٹوٹ گیا
عشق میں تیرے یہ ہوا حاصل
وہ جو تھا تیری جان ٹوٹ گیا