مرا ماضی ہے اک ہتھیار میرا

Madhuvan Rishi Raj

مرا ماضی ہے اک ہتھیار میرا

طماچہ موت کا ہر وار میرا

زمانہ کو بدلنے کے لئے بس

ہے بس کافی دل بیمار میرا

ضرورت تیری ہوگی جس کو ہوگی

مجھے کافی ہے یہ انگار میرا

یہ میری باتیں ہنسنے کو نہیں ہیں

کہ ہر اک لفظ ہے مختار میرا

چلا کے اس کو مجھ پہ دیکھ لے کیا

بگاڑے گی تری تلوار میرا