لوگ پھرتے ہیں در بدر تنہا
Qamar Gwaliariلوگ پھرتے ہیں در بدر تنہا
ہو گیا کیا ہر ایک گھر تنہا
تو کسی آفتاب کی مانند
وقت کی اوٹ سے ابھر تنہا
راستہ غم کا کتنا نازک ہے
اس طرف سے کبھی گزر تنہا
کم سے کم ہو رہے ہیں اہل ہنر
رہ نہ جائے کہیں ہنر تنہا
روشنی سب کے کام آتی ہے
شمع جلتی ہے رات بھر تنہا
چھوڑ دے حوصلہ جو ساتھ اگر
کٹ نہیں پائے گا سفر تنہا
کٹتی جاتی ہے زندگی تو قمرؔ
ہوتی جاتی ہے ہر ڈگر تنہا