قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے

Madhuvan Rishi Raj

قلعے برباد کرتا اور پتھر چھوڑ جاتا ہے

جہاں جاتا ہے خوں کا اک سمندر چھوڑ جاتا ہے

محبت تیری گزرے ہے میرے دل سے مرے قاتل

کہ جیسے لوٹ کر شہروں کو لشکر چھوڑ جاتا ہے

تری یادوں کو میں لے کر کہیں بھی ساتھ جاتا ہوں

کہ کاسہ اپنا کب درویش گھر پر چھوڑ جاتا ہے

یہ میرے عشق کی دولت ہے اونچی قصر سلطاں سے

جو اپنی ساری دولت کو یہیں پر چھوڑ جاتا ہے