یہ کینوس پہ جو زرد چہرہ بنا رہے ہیں
Naeem Naazیہ کینوس پہ جو زرد چہرہ بنا رہے ہیں
تمہیں خبر ہو خزاں کا نقشہ بنا رہے ہیں
عجیب گھر ہے جو تیلیوں سے بنا ہوا ہے
ہم اس میں مٹی سے اک پرندہ بنا رہے ہیں
چھپا رہے ہیں بڑی مہارت سے عیب ان کا
تبھی تو چہرے کا ایک حصہ بنا رہے ہیں
ہوائیں کرنیں پرند خوشبو گزر سکیں گے
اسے دریچہ نہ سمجھو رستہ بنا رہے ہیں
بنا رہے ہیں ہم ایک پینٹنگ میں ایک پٹری
اور اس میں ماضی کا ایک لمحہ بنا رہے ہیں