آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں

Raj Bahadur Saxena Auj

آغوش احتیاط میں رکھ لوں جگر کہیں

ڈرتا ہوں لے اڑے نہ کسی کی نظر کہیں

غربت میں اجنبی کا بھی ہوتا ہے گھر کہیں

دن بھر کہیں گزاریے یا رات بھر کہیں

اغیار ہوں کہیں بت شوریدہ سر کہیں

سب کچھ ہو آہ میں تو ہو اپنی اثر کہیں

یوں اف نہ باغ دہر میں بربادی ہو کوئی

بلبل کا آشیاں ہے کہیں بال و پر کہیں

میں آج اپنی آہ کا کرتا ہوں امتحاں

ہوں آسماں زمین نہ زیر و زبر کہیں

قید قفس میں حسرت پرواز کیوں رہے

صیاد جو اڑا دے مرے بال و پر کہیں

رہتی ہے ان کی یاد مرے دل میں ہر گھڑی

اوجؔ ان کے دل میں کاش ہو میرا بھی گھر کہیں