ہم یہاں غم سے ہیں دو چار کہیں اور چلیں

Kalicharan Singh

ہم یہاں غم سے ہیں دو چار کہیں اور چلیں

آپ بھی دکھتے ہیں بیمار کہیں اور چلیں

جان پہچان کے جو چہرے تھے انجان ہوئے

ہم رکھیں کس سے سروکار کہیں اور چلیں

جس بیابان میں ملتے تھے کبھی شام و سحر

سج گیا ہے وہاں بازار کہیں اور چلیں

کیسے کمرے میں ہوا آئے دریچہ بھی نہیں

سانس لینا ہوا دشوار کہیں اور چلیں

حادثہ اپنے محلے میں ہوا ہے تو کیا

پڑھ کے دیکھیں گے کل اخبار کہیں اور چلیں